#____باریک_اور_تنگ_لباس______!
#___مرد_کی_غیرت_کا_اندازہ_اس_کی_عورت_کے___
#________لباس_سے_لگایا_جا_سکتا_ہے____________!
باریک لباس پہننا سر عام فحاشی پھیلانے کے متراد ہے،اس سے اجتناب لازم ہے،،،
خواتین کا غیر شرعی ، باریک ، تنگ ، فیشن دار، گندہ اور بیہودہ لباس معاشرے کے بگاڑ کا سبب ہے،،،،
میری سب ماؤں ، بہنوں کے نام دین کا ایک اچھا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے والا پیغام اپنا لباس اسلام کی تعلیم کے مطابق رکھیں، یعنی لباس میں سادگی ہو، تا کہ آپ کسی کی نظر کی توجہ نا بن سکیں۔ آپ کا لباس تنگ نہ ہو، تا کہ آپکے جسم کے حصے نمایاں نہ ہوں۔ اور آپ کے کپڑے اتنے باریک اور پتلے نہ ہوں کہ آپ لباس پہنے ہوئے بھی عریاں (ننگی)نظر آئیں،،،،
اگر آپ ایسا ہی لباس پہنے گی تویقیناً آپ اللہ کی سزا کی مستحق بھی ہوں گی ،اور آوارہ اور اوباش لوگوں اور گندی سوچ رکھنے والوں کی ہوس کی تسکین کا سامان بھی بنیں گی اور ایسے لباس سے فحاشی بھی پھیلے گی اور معاشرے میں طرح طرح کے فتنے بھی پیدا ہوں گے،،،،
اپنا لباس اسلام کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق پہنیں اور شرعی پردے کو اپنائیں تا کہ آپ کو معاشرے میں عزت ملے اور آپ کی عزت بھی محفوظ رہے اورآپ کو کوئی ستائے نہ اور معاشرے میں کوئی فتنہ یا فساد پیدا نہ ہو، اگر آپ باریک اور تنگ لباس پہنیں گی تو معاشرے میں آپ کو عزت بھی نہیں ملے گی اور معاشرے میں بے حیائی بھی پیدا ہو گی اور آپ معاشرے میں ستائی بھی جاو گی اور آپ کو کوئی عزت کی نظر سے نہیں دیکھے گا بلکہ سب آپ کو بری نظر سے ہی دیکھیں گے،،،
عصر حاضر کے فتنوں میں ایک بڑا فتنہ حیا باختہ عورتوں کا بھی ہے کہ جن کا لباس مغربی عورت کی تقلید میں دن بدن گھٹتا ہی جا رہا ہے!!!!
شروع میں برقع اترا' پھر دوپٹا بھی گیا اور چہرے کے ساتھ ساتھ سر اور گردن بھی ننگی ہوئی۔ بڑے گلوں کا رواج آیا تو گلے کی گہرائی اتنی کہ دیکھ کر شرم بھی شرما جائے۔ آئے دن عورتوں کی قمیصیں چھوٹی سے چھوٹی اور تنگ سے تنگ ہوتی جا رہی ہیں' جس کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہے کہ عورت نے اپنے جسم کے جن اعضاء کو معاشرتی قدغنوں کی وجہ سے چھپایا ہوا ہے وہ بھی کسی طرح تنگ اور باریک کپڑے پہننے سے نمایاں ہو کر سامنے آ جائیں، اور آستین آدھی یا پھر پوری ہی غائب، شلوار جس کا حکم مردوں کے لئے یہ ہے کہ ٹخنوں سے اوپر رکھیں لیکن مردوں نے تو چھپا لئے اور عورتوں نے ٹخنے تو ٹخنے آدھی پنڈلی سے بھی اوپر کرلی۔ دوپٹہ جوکہ اب شاذونادر ہی نظر آتا ہے‘ افسوس کہ اسلامی لباس کی یہ آخری نشانی بھی اب آہستہ آہستہ ہماری نظروں سے اوجھل ہورہی ہے،،،،
ساڑھی انڈین (ہندو) عورتوں کا لباس ہے ان کی ثقافت کا حصہ ہے مگر افسوس کہ ہماری عورتوں میں بھی اس کا استعمال بہت زیادہ رائج ہے،،
جینز (پینٹ) انگریزوں کا قومی لباس ہے اور یہ پہلے صرف مسلمان مردوں کی حد تک تھا‘ لیکن اب مسلمان عورتوں پر بھی اس کا فیشن چھا گیا۔ مسلمان عورتوں نے بھی جینز پہننا شروع کردی۔ میڈیا پر آنے والی عورتیں اب عموما جینز میں ہی نظر آتی ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی دیگر عورتوں نے بھی جینز پہنناشروع کردی۔
افسوس صد ہزار بلکہ صد کروڑ افسوس کہ ہندو عورتوں کا لباس اور اس کی دلدادہ مسلمان عورت"" انگریزوں کا لباس اور اس کی شوقین مسلمان عورت""
آیئے ایک طائرانہ جائزہ طالبات کا لیں!!!!!
ان کے عجیب و غریب انداز دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تعلیمی ادارے میں نہیں بلکہ کسی فیشن شو میں شرکت کے لئے جارہی ہیں،،،
جب ہم انہیں اس حلیےمیں دیکھتے ہیں تو ہماری نگاہیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ لیکن افسوس کہ شرم ان کو مگر نہیں آتی اور والدین ہیں کہ جب ان کی بیٹیاں عریاں لباس میں باہر نکلتی ہیں تو ان والدین کی نگاہیں بجائے شرم سے جھکنے کے فخر سے اٹھی ہوئی ہوتی ہیں، کہ ان کی بیٹی نے بھی موجودہ دور کی ترقی یافتہ سوسائٹی کے آداب سیکھ لئے ہیں، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ آداب ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنتے ہیں،،،،
جی ہاں!!!!!
مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کرنے والی ہر لڑکی جو باپ کو ڈیڈی اور ماں کو ممی کہنے میں فخر محسوس کرتی ہے‘ اے کاش! ایک لمحہ کے لئے اپنی بے حیائی و عریانی کا جائزہ لے ان کی اس قدر عریانی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اگر اس عریانیت کو روکا نہ گیا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے معاشرے میں ہر نام نہاد مسلمان لڑکی اسکرٹ پہنے پھرے گی،،،،
ایک اور ضروری بات!!!!
آپ نے ایک بات کا مشاہدہ کیا ہو گا کہ آج کل جو عبایا (برقعہ )پہنے جاتے ہیں وہ بجائے زینت چھپانے کے خود ایک زینت ہیں اور اس سے عبایا (برقعہ )کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے .. اور جیسے ہم نے کپڑے عام روٹین میں پہنے ہوتے ہیں وہ نسبتا سادہ ہوتے ہیں اور اگر ہم ان کے اوپر زینت سے بھرا عبایا (برقعہ) پہن کر جائیں تو اس کا کیا فائدہ ؟؟؟؟
جب کے عبایا (برقعہ )کا مقصد ہی اپنے آپ کو اور کپڑوں کے رنگ اور زینت وغیرہ کو چھپانا ہے مگر ایسے عبایا (برقعے)تو اور لوگوں کو مزید اٹریکٹ کرتے ہیں ،،،، اور کچھ بہنوں کا عبایا (برقعہ )بھی بہت چست اور باریک ہوتا ہے جو پردہ کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا ،،،
آج ایک مسلمان عورت بے حیائی و عریانی کی آخری حدوں سے گزر رہی ہے اور اسی وجہ سے معاشرے میں بے شمار برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ سوچیں غور کریں کہ موجودہ دور کی مسلمان عورت جس طرز کا لباس زیب تن کرتی ہے۔ کیا یہ لباس ہماری تہذیب ‘ ہماری ثقافت‘ ہمارے وطن کے معیار اور ہمارے مذہب کے تقاضے پورے کرتا ہے؟؟؟
آج ہمارا کھانا پینا‘ اٹھنا بیٹھنا‘ سونا جاگنا‘ چلنا پھرنا اور لباس وغیرہ انگریزی تہذیب کے رنگ میں رنگ گیا ہے۔ مغربی تہذیب کی نئی روشنی میں ہم فیشن اور عریانیت کو تو پسند کرکے اس کو اپناتے ہیں لیکن انجام کو مدنظر نہیں رکھتے
غور کیجئے!!!!
کیا ظالم یہودی بھی ہماری نقل کرتا ہے؟ کیا فرنگی لوگ بھی ہمارے طور طریقے اپناتے ہیں؟ پھر آپ کو کیا ہوگیا جو یہود و نصاریٰ کے پیچھے‘ ان کے فیشن کے پیچھے‘ اس قدر مٹھیاں بند کرکے دوڑے چلے جارہے ہیں‘ خدارا! قیامت کی شرم پیدا کیجئے۔ جب سب اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش ہوں گے، اس وقت کیا انجام ہوگا؟
جبکہ ہمارے آقا نے یہ تنیبہ بھی تو فرما دی ہے کہ!!!!
’’جوجس قوم سےمشابہت کرے، وہ انہیں میں سےہے ‘‘ (ابو دائود)
ایک پیغام کہ لباس کی خریداری سے پہلے ذرا سوچیئے کہ لباس جیسا بھی ہو ، بوسیدہ ہو جائے گا، لباس کی تعریف کرنے والے یا تنقید کرنے والے بھی فنا ء ہو جائیں گے، لیکن لباس کے نتیجے میں ملنے والا اجر و ثواب یا گناہ و وبال آپ کے نامہ اعمال میں باقی رہے گا،،،
اس لیے مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیوی ، بچوں اورگھر میں بہنو ں اور بیٹیوں کو لباس کے بارے میں سمجھائیں اور ان کی اصلاح کریں تا کہ ان کا لباس بھی اسلامی تعلیم کے مطابق ہو ، کیوں کہ کل کو قیامت کے دن آپ سے بھی سوال ہو گا کہ گھر والوں کو سمجھایا کیوں نہیں،،،
جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ!!!!
""""رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگاہ ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا""""
بے پردگی تو ایک طرف، آج ساتر اور باحیا لباس ہی معاشرے سے ختم ہوگیا ہے۔ )الا ماشاء اللہ( نہ کپڑا بنانے والے مرد یہ دیکھتے ہیں کہ کتنا باریک کپڑا بنا رہے ہیں ،نہ بیچنے والے اس بات پر غور کرتے ہیں کہ کتنا گناہ کما رہے ہیں بلکہ جب باپردہ و باحیا عورت کپڑا خریدنے جاتی ہے اور باریک کپڑے لینے سے انکار کرتی ہے تو بہت سے بزاز بھی کہتے ہیں بہن جی لے جا ئیں یہ دھونے سے موٹا ہوجائے گا،، اس ضمن میں بہت سارے لوگ اور سہل انگاری اور کوتاہی کا شکار ہوتے ہیں اور بعض نامور دکانوں پر بکنے وا لے سوٹ اور کپڑے بھی حیا کے بنیا دی تقاضے ہی پورے نہیں کرتے۔ یہ بہت تشویشناک بات ہے،،،،
""" بےشک جو لوگ مومنین میں بےحیائی پھیلانے کو پسند کرتے ہیں،ان کے لئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہو گا اور اللہ(انہیں خوب)جانتا ہے،تم نہیں جانتے"""" ( النور: 19)۔
.
علامہ اقبال نے سچ کہاتھا کہ!!!
""""وضع میں تم ہو نصاریٰ‘ تو تمدن میں ہنود""""
""""یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کےشرمائیں یہود""""
اپنے دل میں خدا عزوجل کا خوف پیدا کیجئے! کہیں فیشن کی محبت (عریانیت سے پیار) ہمیں بروز قیامت خنزیر خور یہود ونصاریٰ کے ساتھ کھڑا نہ کردے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ ذلت و رسوائی ہر طرف سے گھیر لے اور پھر پچھتانا پڑے،،،،
No comments:
Post a Comment